ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کالج میں مسلم طالبات کے حجاب کی مخالفت میں ہند تووادی طالب علموں نے زعفرانی شال اوڑھ کر کھڑا کیا نیا تنازعہ

کالج میں مسلم طالبات کے حجاب کی مخالفت میں ہند تووادی طالب علموں نے زعفرانی شال اوڑھ کر کھڑا کیا نیا تنازعہ

Thu, 01 Sep 2016 21:42:18    S.O. News Service

منگلورویکم /ستمبر(ایس او نیوز) سولیا تعلقہ کے پیرو واجے بیلارے نامی مقام پر واقع کے شیورام کارنت گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کی مخالفت کرتے ہوئے یہاں کے ہندتووادی تنظیم سے وابستہ طالب علموں نے یونیفارم کے ساتھ زعفرانی شال اوڑھ کر کالج میں آنا شروع کیا ہے اور یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ جب تک کالج میں حجاب کی پابندی کرنے مسلم طالبات کے خلاف کالج پرنسپال کی جانب سے ضابطے کی کارروائی نہیں کی جاتی اور حجاب پہننے سے روکا نہیں جاتا، تب تک وہ اسی طرح یونیفار م کے ساتھ زعفرانی شال کا استعمال کرتے رہیں گے۔ یہ ہندتووادی طلباء نہ صرف خود اسی طرح کلاسس میں حاضر ہورہے ہیں، بلکہ دیگر غیر ہندو طالب علموں کو بھی یہی راہ اپنانے پر اکسا رہے ہیں۔ لیکن پتہ چلا ہے کہ بہت سارے دیگر ہندو طالب علموں نے ان کا ساتھ دینے اور اس طرح کے تنازعے کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

کہتے ہیں کہ جب پرنسپال اور بعض لیکچررس نے اس طرح کے لباس کے ساتھ کلاس میں حاضر رہنے پر پوچھ تاچھ کی تو انہوں نے واضح طور پر ایک ہی جواب دیا کہ جب تک کالج میں حجاب پر پابندی نہیں لگائی جائے گی تب تک وہ اسی طرح شال اوڑھ کر احتجاج کرتے رہیں گے۔

زعفرانی شال اوڑھے ہوئے طالب علموں کی تصاویر اور احتجاج کا موضوع سوشیل میڈیا پر گرما گرم بحث کا رخ اختیار کر گیا ہے جہاں ایک طرف دیگر ہندتووادی گروپس ان احتجاجی طلبہ کی حمایت میں اتر آئے ہیں تو دوسری طرف امن و انصاف پسند شہریوں کی طرف سے اس ہنگامے کی سخت مخالفت بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔خود غیر مسلموں کی جانب سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ پردہ اور حجاب مسلمانوں کے مذہب سے متعلقہ چیز ہے۔ اس پر پابندی کا مطالبہ کرنا عدم برداشت کی ایک او ر مثال ہے۔ 

اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے اسی کالج کے ایک سابق طالب علم چیتن شرماکا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی مسجدوں اور مدرسوں میں حجاب پہننے دو۔ گورنمنٹ کالجوں میں جہاں مختلف مذاہب کے طلبہ پڑھتے ہوں وہاں اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کو دیگر انسانوں کی طرح ہی جینا سیکھنا چاہیے۔

اسی کالج کی ایک مسلم طالبہ نے کہا کہ ہم لوگ کالج کے اندر کالے برقعے تو نہیں پہن رہے ہیں۔ صرف سر پر اسکار ف پہنتے ہوئے پورے جسم کو اچھی طرح ڈھک لیتے ہیں۔ اگر ہندتوا وادی لڑکے زعفرانی شالیں اوڑھنا ہی چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ایک اور مسلم طالبہ نے کہا کہ ہندتواوادی طالب علم مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے پربے عزتی کرنے کے لئے طعنہ زنی اور فقرے بازی کرتے رہتے ہیں۔اس طرح اصل میں وہ لوگ سیتا اور مریم کی بے عزتی کرتے ہیں جو مغربی عورتوں کے برخلاف اپنے پورے جسم کو اچھی طرح ڈھانک لیا کرتی تھیں۔

اس دوران پتہ ہے کہ کالج کے پرنسپال نے کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے طلباء کے والدین کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کرنے اور اس موضوع پر تبادلہ خیال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


Share: